27 جون 2011 - 19:30

عرب لیگ نے صہیونی ریاست کو ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی پر دستخط کرنے پر مجبور کرنے کے لیے بین الاقوامی حلقوں کی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ عرب لیگ کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ وائل اسد نے اس ضرورت پر زور دیتے ہوئے صہیونی ریاست کے ایٹمی بجلی گھروں خاص طور پر ڈیمونا ایٹمی بجلی گھر کے اور مشرق وسطی کے علاقے پر صہیونی ریاست کے فوجی اور ایٹمی اقدامات کے خطروں کے بارے میں خبردار کیا۔

ابنا: وائل اسد نے کہا کہ ڈیمونا ایٹمی بجلی گھر پچاس سال پہلے قائم کیا گيا تھا اور وہ پرانا اور فرسودہ ہو چکا ہے اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی بھی اس پرکوئی نگرانی نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل کے ڈیمونا ایٹمی بجلی گھر کی نگرانی کرے تاکہ کوئی المیہ رونما نہ ہو کیونکہ ہمیں اس کی سرگرمیوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ مشرق وسطی کے علاقے کے لیے صہیونی ریاست کی ایٹمی آلودگی اس قدر زیادہ نقصان دہ ہے کہ حتی اس حکومت کے صحافتی حلقوں نے بھی اعتراف کیا ہے کہ علاقے کے لیے اسرائیل کے ایٹمی آلودگی کے خطرے بہت بڑھ گئے ہیں۔ اسرائیل کے اخبار یدیعوت احرونوت نے کچھ عرصہ قبل لکھا تھا کہ اسرائیل کے ایٹمی بجلی گھروں خاص طور پر ڈیمونا ایٹمی بجلی گھر کی تابکاری اور ایٹمی فضلے کے نتیجے میں کینسر کی بیماریوں میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد ماضی کے مقابلے میں چالیس فیصد بڑھ گئی ہے۔ صہیونی ریاست کے فوجی ایٹمی اقدامات پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ اس بنا پر اکثر علاقائی اور بین الاقوامی اجلاسوں میں اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ صہیونی ریاست کے فوجی ایٹمی اقدامات علاقے اور دنیا کی سلامتی کے لیے سنگين خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔صہیونی ریاست کے فوجی ایٹمی اقدامات کا نتیجہ اسرائیل میں ایٹمی ہتھیاروں کے ایک بڑے ذخیرے کی صورت میں سامنے آیا ہے اور خود مغربی حلقوں کے پیش کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت صہیونی ریاست کے پاس دو سو زائد ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں اور وہ دن رات ان میں اضافے کی کوشش کر رہی ہے۔ مغربی ممالک کی طرف سے صہیونی ریاست کو ایٹمی ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کی فراہمی بھی این پی ٹی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب صہیونی ریاست مغربی ممالک کی بھرپور حمایت سے ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی میں شامل ہونے سے مسلسل انکار کر رہی ہے اور اپنا عسکری ایٹمی پروگرام پوری تیزی سے جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو اپنی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتی ہے جبکہ دوسری جانب ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی بھی مغربی حکومتوں کے دباؤ میں صیہونی حکومت کے سلسلے میں دفاعی رویہ اختیار کیے ہوئے ہے جس پر عالمی سطح پر تنقید کی جا رہی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت